نیشنل کانفرنس نے “حد بندی کمیشن” کے اجلاس میں شرکت نہ کرکے بی جے پی کو ‘فری ہینڈ’ دیا۔۔۔۔۔۔۔غلام۔نبی آذاد

نیشنل کانفرنس نے “حد بندی کمیشن” کے اجلاس میں شرکت نہ کرکے بی جے پی کو ‘فری ہینڈ’ دیا۔۔۔۔۔۔۔غلام۔نبی آذاد
این سی کے ممبران پارلیمنٹ کی عدم شرکت “اچھی بات نہیں ہے”. ڈاکٹر فاروق ہمارے موقف کو مظبوط بنادیتے ۔۔۔کانگریس

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد نے حد بندی اجلاس میں نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمنٹ کی عدم شرکت پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اچھی بات نہیں ہے کہ ممبران پارلیمنٹ نے میٹنگ میں حصہ نہیں لیا ۔ کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے آزاد نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے ممبران پارلیمنٹ کو حد بندی سے متعلق منعقدہ میٹنگ میں حصہ لینا چاہئے تھا لیکن انہوں نے اس کا بائیکاٹ کیا جو کہ “اچھی بات” نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے پاس اکثریت ہے کیونکہ انکے تینوں ممبران پارلیمنٹ ڈلیمیٹیشن کمیشن یعنی حدبندی کمشن کےممبر مقرر کئے گئے تھے اور ان کی شرکت سے ہمارا معاملہ بہت زیادہ مضبوط ہوجاتا تاہم انہوں نے حد بندی کمشن میٹنگ کا بائیکاٹ کرکے بی جے پی کو آزادانہ طور فیصلہ کرنے کا اختیار دیا ۔سابق وزیر اعلی نے کہا کہ میٹنگ میں شرکت کرکے وہ اپنے خیالات اور دلائل کو مضبوطی سے پیش کرسکتے تھے کیونکہ ان کی اکثریت ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ جیسے سینئر رہنما جو حد بندی کمیشن کے ممبر بھی ہیں اجلاس میں شریک ہوکر ہمارے معاملے کو مضبوط بنادیتے مگر حد بندی کمشن کی میٹنگ میں شرکت نہ کرنے سے نیشنل کانفرنس نے بی جے پی کو واک اور دیا اور اگر وہ وہاں پر موجود ہوتے تو وہ بی جے پی کی سخت مخالفت کرتے اور اپنے دلائل پیش کرتے۔کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ یہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کے ممبران اجلاس سے کیوں دور رہے اور اس میٹنگ میں حصہ نہ لیتے ہوئے انہوں نے بی جے پی کو “فری ہینڈ” دے دیا جو کہ اچھی بات نہیں ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اتوار کے روز نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما جسٹس حسنین مسعودی نے کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پوری حد بندی کمشن کی مشق ان کے لئے “غیر قانونی” اور غیر آئینی ہے اور ہم وہاں اپنی تجاویز پیش نہیں کرسکتے تھے کیونکہ یہ مشق جمہوریت کی آئینی شقوں کے منافی ہے اور ہماری شرکت پوری غیر قانونی مشق کو قبول کرنے کے مترادف ہوتی جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ اس حوالے سے نیشنل کانفرنس کا واضح موقف ہے کہ یہ تمام اقدامات غیر قانونی ہیں۔کے این ایس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے تینوں ممبران پارلیمنٹ جن میں ڈاکٹر فاروق عبد اللہ ، محمد اکبر لون اور جسٹس(آر) حسنین مسعودی شامل ہیں نے گذشتہ ہفتے جمعرات کے روز حد بندی کمشن کے متعلق منعقدہ میٹنگ کا بائیکاٹ کیا اور مزکورہ میٹنگ کی عدم شرکت کے بارے میں ڈلیمیٹیشن کمیشن کے چیئرپرسن جسٹس (ر) رنجنا پررکاش دیسائی کو خط کے ذریعے آگاہی فراہم کی تھی ۔کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیر کے لئے قائم کئے گئے حد بندی کمیشن نے گذشتہ ہفتے جمعرات کے روز اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا تھا جس میں تمام ممبران کو اپنی تجاویز پیش کرنے کو کہا گیا تھا ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرکز نے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کی شقوں کے تحت لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں کو ازسر نو شکل دینے کے لئے گذشتہ سال 6 مارچ کو جموں و کشمیر کے لئے حد بندی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.