شوپیان کے متعدد دیہات میں شدید “ژالہ باری”،میواہ باغات اور کھڑی فصلوں کو زبردست نقصان

شوپیان کے متعدد دیہات میں شدید “ژالہ باری”،میواہ باغات اور کھڑی فصلوں کو زبردست نقصان

ڈپٹی کمشنر شوپیان نے 07 جنگل اسمگروں پر کیا
“پی ایس اے” لاگو جبکہ شوپیان پولیس نے فکی سمیت 2 افراد کو کیا گرفتار ۔۔۔۔

الحاق خبر ۔۔۔۔۔۔شوپیان کے متعدد دیہات میں شدید اور قہر انگیز ژالہ باری سے میواہ باغات اور دیگر کھٹری فصلوں کو زبردست نقصان پہنچا ہے ۔ اس دوران محکمہ جنگلات کی سفارش پر ڈپٹی کمشنر شوپیان نے 07 جنگل اسمگلروں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کیس درج کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔شوپیان سے الحاق کے نمائندے نے اطلاع دی ہے اتوار بعد دوپہر شوپیان میں موسم نے اچانک اپنا مزاج بدلا اور ضلع کے متعدد دیہات جن میں کچھڈورہ، نوگام ، چھترپورہ، دانگام ،وانگام،رکھپورہ ،چک کچھڑورہ اور چک نوگام وغیرہ دیہات شامل ہیں میں شدید ژالہ باری شروع ہوئی جو کئی منٹوں تک جاری رہی ۔نمائندے نے عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ شدید ژالہ باری کی وجہ سے میواہ باغات اور دیگر کھڑی فصلوں کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔کئی باغ مالکان نے الحاق کے نمائندے کو بتایا کہ شوپیان ضلع میں فروٹ انڈسٹری گزشتہ کئی برسوں سے شدید مشکلات کی بھنور میں ڈوبی ہوئی ہے اور گزشتہ سال بھی ژالہ باری کی وجہ سے باغ مالکان کو کروڑوں روپے کے نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے لہذا گورنر انتظامیہ کو اس مشکل صورت حال کو مدنظر رکھ کر کسانوں کے” کے. سی سی.” قرضہ جات معاف کرنے کےلئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے چاہئے۔ادھر الحاق نمائندے کے مطابق کہ ڈپٹی کمشنر شوپیان سچن کمار نے سنیچر کے روز 07 جنگل اسمگروں کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ( PSA) کے تحت کیس درج کرنے کے احکامات صادر کئے۔محکمہ جنگلات کے ایک آفیسر نے الحاق نمائندے کو بتایا کہ مزکورہ جنگل سمگلر جنگل چوری کے متعدد واقعات میں ملوث تھے اور انکے محکمے نے انکے خلاف ڈویزر تیار کیا تھا اور ڈپٹی کمشنر شوپیان نے انکی یہ مانگ پورا کی ۔ اس دوران شوپیان پولیس نے ایک ڈرامائی کاروائی کے دوران گزشتہ شام بٹہ پورہ بس اسٹینڈ کے نزدیک بغیر نمبر پلیٹ ایک گاڑی سے بھاری مقدار میں فکی ضبط کرکے دو افراد کو حراست میں لیا ہے ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ دوران تفتیش ملزموں نے کئی اہم انکشافات کئے اور پولیس اس پورے معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات کررہی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.